53 سورتہ فصلت کی آیت
میں اللہ نے ہماری عقلوں کو ایک بہت بڑے راز سے فیض یاب فرمایا ہے۔
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ
عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ واقعی برحق ہے
آیت نے پردہ اُٹھا دیا کہ حقیقت تک پہنچنے کے دوراز یعنی دو ہمسفر ہیں، پہلا یہ کہ کائنات کو سمجھا جائے اور دوسرا اپنی ذات کو سمجھنا۔ مجھے نہیں یاد کہ پہلی دفعہ میں کب اس آیت پر رکا تھا،
پندرہ سال کے قریب قریب کا اندازہ ہے اور تب سے اس ناچیز کو کائنات اور اپنی ذات کو جاننے، سمجھنے اور پرکھنے کا نشہ ہے۔ اسی سلسلے مِیں انسانی ذہن کا مطالعہ اہم ترین موضوع ہے۔ میں نے یہ سب مواد بہت سے محققین کی محنت سے اختراع کیا ہے جس کے لئے میں تہہ دل سے ان کا مشکور ہوں اور ان کا نام لینا ان کی محنت کی اجرت کے طور پر ہے۔ زیل میں انسانی ذہن کے چند پرت سمجھنے کی کوشش ہے جو شاید کسی بھی طالبِ علم کے لئے مددگار ہو سکتی ہے۔
انسانی ذہن ایک عجیب خاموش کائنات ہے مگر مسلسل بولتی ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کو دیکھ رہے ہیں، مگر حقیقت میں ہم اپنے ذہن کی تخلیق کی گئی دنیا کو محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی راز کو کھولنے کے لیے آئیے چند ایسے نفسیاتی حقائق اور ذہنی ہنر
(mind hacks)
کو فکری انداز میں سمجھتے ہی جو انسانی رویّے کی گہرائی تک رسائی دیتے ہیں۔
ذہن کی پانچ پوشیدہ حقیقتیں
انسانی شعور کی سب سے بڑی چال یہ ہے کہ وہ ہمیں مکمل سچ کبھی نہیں دکھاتا۔ جدید نظریہ
Predictive processing
یہی کہتا ہے کہ ہمارا دماغ حقیقت کو پیش گوئی کی بنیاد پر تشکیل دیتا ہے۔ گویا ہم آنکھوں سے کم اور اپنے گمان سے زیادہ دیکھتے ہیں۔ اس کی عام مثال یوں ہے کہ اگر کسی رشتے میں اعتماد کم ہو تو فون دیر سے اٹھانے پر دماغ فوراً کہتا ہےکہ وہ “کچھ چھپا رہا ہے” جبکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے کہ بس مصروف ہو۔ ہمارا دماغ پہلے سے
Predict
کر لیتا ہے کہ کچھ چھپایا جا رہا ہے۔
پھر وقت کے احساس کا مطالعہ کیجئے جو ہمیں لگتا ہے کہ ہر لمحہ برابر رفتار سے گزرتا ہے جبکہ درحقیقت یہ ایک دھوکہ ہے۔ خوف کے لمحوں میں وقت سست محسوس ہوتا ہے، کیونکہ دماغ زیادہ تفصیل محفوظ کر رہا ہوتا ہے۔ یوں لمحہ نہیں بدلتا، بلکہ یادداشت کی کثافت بڑھ جاتی ہے۔
یادداشت خود بھی کوئی اٹل ریکارڈ نہیں۔
False Memory
کے تحت انسان ایسے واقعات کو بھی سچ مان لیتا ہے جو کبھی پیش ہی نہیں آئے۔ ہر بار جب ہم کسی یاد کو دہراتے ہیں، ہم اسے تھوڑا سا بدل دیتے ہیں۔ یوں ماضی ایک کہانی بن جاتا ہے جس میں ہمارے ذہن کی کئی اختراعات شامل ہوتی ہیں کیونکہ اس یاد کو دہرانے کے لئے ہمارے ذہن کا تجربہ ہر بارپہلے سے بڑھ چکا ہوتا ہے۔
اسی طرح جب انسان کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو وہ درد صرف جذباتی نہیں رہتا۔ دماغ اسے جسمانی اذیت کی طرح محسوس کرتا ہے۔ اس کیفیت کو
Social Pain Theory
بیان کرتی ہے۔ گویا دل کا ٹوٹنا محض محاورہ نہیں، ایک حیاتیاتی تجربہ ہے۔
آخرکار، ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ بار بار سنی گئی بات سچ لگنے لگتی ہے۔ اسے
Illusory Truth Effec
کہا جاتا ہے۔ جھوٹ، اگر مسلسل دہرایا جائے، تو ذہن کے دروازے پر سچ کی طرح دستک دیتا ہے۔
زہن کا بہترین استعمال کرنے کے پانچ ہنر
پہلا گُر یہ ہے کہ اپنے احساس کو فورا ایک نام دیا جائے۔ جب آپ کہتے ہیں “میں پریشان ہوں” یا “یہ خوف ہے” تو دراصل آپ جذبات کی شدت کو کم کر رہے ہوتے ہیں۔ اس عمل کو
Affect Labeling
کہا جاتا ہے۔ یعنی نام دینے سے قابو پانا۔ جیسے ہی ہم اسے نام دیتے ہیں ہمارا دماغ اس نام سے متعلق تمام مواد اکٹھا کرتا ہے اس کو ٹھیک کرنے لگ جاتا ہے یوں پریشانی یا تو کم ہو جاتی ہے یا جلدی ختم کیونکہ اسے دماغ کی خاص توجہ حاصل ہو جاتی ہے۔
دوسرا ہنر عمل کی رفتار سے جڑا ہے۔
Mel Robbins
کا پیش کردہ اصول یہ سکھاتا ہے کہ اگر آپ نے کسی کام کا ارادہ کیا ہے تو پانچ سیکنڈ کے اندر قدم اٹھا لیجیے، ورنہ ذہن بہانے تراش لے گا۔ تاخیر، دراصل خوف کی ایک مہذب شکل ہے۔ اسکی عادت ڈالنے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ فقط یہ یقین کرلیں کہ جو بھی کام ہونے جارہاہے وہ ٹھیک ہے، اس میں کوئی جرم یا برائی نہیں تو پہلے پانچ سیکنڈ مِیں کر گزریں۔
تیسرا گُر انسانی فطرت کے ایک نرم گوشے کو چھوتا ہے۔ اگر آپ کسی سے بڑا کام لینا چاہتے ہیں، تو
Jonathan Freedman
کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ پہلے ایک چھوٹی سی درخواست کریں۔ یہ طریقہ
Foot-in-the-Door Technique
کہلاتا ہے۔ جہاں چھوٹا “ہاں” بڑے “ہاں” کی راہ ہموار کرتا ہے۔
چوتھا ہنر سوچ کے زاویے کو بدلنے کا ہے۔
James J. Gross
کے مطابق جب آپ “دباؤ” کو “موقع” کہہ دیتے ہیں، تو کیفیت بدل جاتی ہے۔ اسے
Cognitive Reappraisal
کہا جاتا ہے یعنی معنی بدلیں، احساس بدل جائے گا۔
پانچواں اور نہایت باریک ہنر یادداشت کے اصول سے جڑا ہے۔
Daniel Kahneman
کے مطابق انسان کسی بھی تجربے کو اس کے عروج اور اختتام سے یاد رکھتا ہے، جسے
Peak-End Rule
کہا جاتا ہے۔ گویا کہانی کا آخری جملہ پوری داستان کا تاثر بدل سکتا ہے۔ دفتروں میں لوگ اس کا استعمال عام کرتے ہیں یعنی کسی بھی میٹنگ میں اصل مواد یا بات کو میٹنگ اختتام پر پیش کردینا۔
انسانی ذہن کو سمجھئے، یہ ایک آئینہ نہیں بلکہ یہ ایک کمال کا مصور ہے جو حقیقت کو اپنی مرضی اور اپنے رنگوں سے سجاتا ہے۔ کبھی وہ ہمیں دھوکہ دیتا ہے، اور کبھی وہی ہماری سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔ فرق صرف اس بات میں ہے کہ ہم اس کے رازوں سے کتنے واقف ہیں۔
جب انسان اپنے ذہن کو سمجھ لیتا ہے، تو وہ نہ صرف دنیا کو بہتر دیکھنے لگتا ہے بلکہ خود کو بھی ایک نئی روشنی میں پہچان لیتا ہے۔ خود کو پہچاننا ہی حقیقت کو پہچاننے کی طرف پہلا قدم ہے۔
اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
تحریر: حسنین ملک