نادان بچہ
نادان بچہ
September 10, 2025
نفس و آفاق
March 30, 2026

اپنا فرض

تاریخ کے صفحات بھی عجیب ہوتے ہیں۔ کچھ نام تو سورج کی طرح چمکتے ہیں اور کچھ ہمیشہ سایوں میں رہ جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑے واقعے کے پیچھے کچھ ایسے کردار بھی ہوتے ہیں جن کے بغیر کہانی مکمل نہیں ہوتی۔

تختۂ دار کے سائے میں کھڑا ایک ایسا ہی کردار ہے جلاد۔ وہ آدمی جس کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں کم ملتا ہے، مگر ہر آخری لمحے میں وہی موجود ہوتا ہے۔ خاموش، سنجیدہ، اور اپنے فرض کے بوجھ کے ساتھ۔

برصغیر کی جیلوں کی تاریخ میں ایک ایسا ہی مسیح خاندان جلاد رہا ہے اور تارا مسیح اسی خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک نام ہے جو وقت کے ساتھ قدرے نمایاں ہوا۔

ایک عجیب پیشہ، ایک خاموش زندگی، تارا مسیح کسی داستان کے ہیرو نہیں تھے۔ وہ نہ سیاست دان تھے، نہ سپاہی، نہ جج۔ وہ صرف ایک ایسے پیشے کے وارث تھے جسے دنیا دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔ ان کے خاندان کے افراد برطانوی دور سے جیلوں میں جلاد کی ذمہ داری ادا کرتے آئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو عدالتوں کے فیصلوں کو آخری انجام تک پہنچاتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ اسی روایت کے تسلسل میں انقلابی بھگت سنگھ کے آخری لمحوں میں بھی ایک جلاد موجود تھا۔
اسی طرح پاکستان کی تاریخ کے ایک حساس اور متنازعہ باب میں سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو بھی تختۂ دار تک لانے والے نظام میں یہی کردار موجود تھا۔

مگر تاریخ نے ہمیشہ صرف مرنے والوں کو یاد رکھا۔ مارنے کی زمہ داری انجام دینے والا ہمیشہ پس منظر میں رہا۔

تختۂ دار کی صبح، پھانسی کی صبح جیل کی فضا ہمیشہ مختلف ہوتی ہے۔ سورج ابھی پوری طرح نہیں نکلا ہوتا۔ فضا میں ایک عجیب سی خاموشی ہوتی ہے۔ دور کہیں اذان کی آواز، لوہے کے دروازوں کی چرچراہٹ، اور چند قدموں کی آہٹ۔

قیدی کو کوٹھڑی سے نکالا جاتا ہے۔

اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ پھانسی صبح سویرے کیوں دی جاتی ہے؟

اس کی ایک سائنسی وجہ بھی بتائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت انسانی جسم نسبتاً پرسکون اور ڈھیلا ہوتا ہے۔ نیند کے بعد اعصاب میں تناؤ کم ہوتا ہے، جس سے جسم اچانک جھٹکے کو بہتر طور پر برداشت کر لیتا ہے اور موت نسبتاً جلد واقع ہو سکتی ہے۔

جلاد رسی کو دیکھتا ہے، گرہ کو درست کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا ہنر ہوتا ہے جو نسلوں سے منتقل ہوتا آیا ہے، گرہ ایسی ہو کہ گردن فوراً ٹوٹ جائے اور تکلیف کم سے کم ہو۔

ایک طرف سے اشارہ ملتا ہے۔ لیور کھینچا جاتا ہے اور پھر وقت جیسے تھم جاتا ہے۔

قانون کے مطابق جسم کو تقریباً پچیس منٹ تک لٹکا رہنے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر آتا ہے، نبض دیکھتا ہے، اور خاموشی سے اعلان کرتا ہے کہ

موت واقع ہو چکی ہے

ایک حقیقت، مگر ہر پھانسی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر قیدی کا وزن کم ہو یا جھٹکا پوری شدت سے نہ لگے تو موت فوراً واقع نہیں ہوتی۔ ایسے مواقع پر روایتاً جلاد کو مرنے والے کے ساتھ لٹک کر اپنے وزن سے نیچے کھنچاؤ پیدا کرنا پڑتا ہے تاکہ عمل جلد مکمل ہو سکے۔

یہ منظر شاید باہر کی دنیا کے لیے ناقابلِ تصور ہو، مگر جیل کی دیواروں کے اندر یہ پیشہ اپنی تمام سختیوں کے ساتھ موجود رہا ہے۔

جلاد کی یاداشتیں کیا ہوتی ہے؟

وہ سترہ سالہ لڑکا، ایک دن ایک سترہ سالہ نوجوان تختۂ دار تک لایا گیا۔
اس نے غصے کے ایک لمحے میں اپنی منگیتر کو قتل کر دیا تھا۔

جب اسے رسی کے قریب لایا گیا تو اس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔

تارا مسیح نے ہمیشہ کی طرح آہستہ سے کہا میں صرف اپنا فرض ادا کر رہا ہوں

لڑکے نے ان کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا

اگر یہاں آپ کا اپنا بیٹا کھڑا ہوتا تو کیا آپ یہی کہتے؟

یہ جملہ سن کر چند لمحوں کے لیے فضا بالکل ساکت ہو گئی۔

کہتے ہیں اس دن کے بعد یہ سوال تارا مسیح کے دل میں کہیں رہ گیا تھا۔

ایک اور قیدی جس کا نام جیل کے عملے کی یادوں میں رہ گیا، محرم علی تھا۔ اس کا تعلق اُس مقدمے سے تھا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں کئی بے گناہ لوگ جان سے گئے تھے۔ عدالتوں نے طویل سماعت کے بعد اسے اس حملے میں معاونت اور سہولت کاری کا ذمہ دار قرار دیا اور سزائے موت سنائی۔

جیل کے عملے کے مطابق محرم علی کے رویّے میں ایک عجیب سا اعتماد تھا۔ اپنے آخری دنوں میں وہ زیادہ گفتگو نہیں کرتا تھا، مگر بظاہر خوف یا گھبراہٹ بھی ظاہر نہیں کرتا تھا۔ بعض اہلکاروں کے مطابق وہ اپنے انجام کو ایک نظریاتی یقین کے ساتھ قبول کرتا نظر آتا تھا، جیسے وہ سمجھتا ہو کہ وہ کسی بڑے مقصد کے لیے مر رہا ہے۔

پھانسی کے دن جب اسے تختۂ دار تک لایا گیا تو اس کے چہرے پر غیر معمولی سکون تھا۔ اس نے صرف مختصر الفاظ میں کہا

انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے، آج میرا حساب کا دن ہے

میں اکثر سوچتا ہوں کہ جلاد اپنی تنہائی میں کیا سوچتے ہوں گے؟ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ جلاد کو کچھ محسوس نہیں ہوتا۔

لیکن نفسیات کہتی ہے کہ انسان چاہے جتنا بھی خود کو مضبوط بنا لے، کچھ تصویریں اور آوازیں ذہن میں رہ جاتی ہیں۔ جب تارا مسیح رات کو اکیلے ہوتے ہوں گے تو شاید کبھی کبھار وہ چہرے ان کی یاد میں آ جاتے ہوں گے۔

کسی کا آخری جملہ، کسی کی آنکھوں کی خاموشی، کسی کی مسکراہٹ۔

شاید کبھی خواب میں وہی لمبا سا تختۂ دار نظر آتا ہو۔
رسی ہل رہی ہو… اور دور کہیں اذان کی آواز آ رہی ہو۔

پھر وہ اچانک جاگ جاتے ہوں گے۔

اور خود کو یہی کہتے ہوں گے

میں نے صرف اپنا فرض ادا کیا تھا

پھانسی سے پہلے اکثر لوگ کچھ نہ کچھ کہتے ہیں۔ کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو سننے والوں کے دل میں ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔

کسی نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا

انصاف زمین پر نہ ملا تو شاید آسمان پر مل جائے گا

ایک نوجوان نے رسی کو دیکھ کر مسکرا کر کہا

زندگی نے بہت دیر سے سمجھایا مگر اب وقت ختم ہو گیا ہے

جب تاریخ لکھی جاتی ہے تو اس میں انقلابیوں اور حکمرانوں کے نام روشن ہوتے ہیں۔

مگر ہر کہانی کے آخری منظر میں ایک اور شخص بھی کھڑا ہوتا ہے۔

وہ نہ ہیرو ہوتا ہے، نہ ولن۔

وہ صرف ایک آدمی ہوتا ہے جو ایک لیور کھینچتا ہے
اور پھر خاموشی سے ایک طرف ہٹ جاتا ہے۔

تارا مسیح شاید اسی خاموش کردار کی علامت تھے۔

اور شاید ان کی زندگی کو ایک ہی جملہ بیان کرتا ہے

“میں صرف اپنا فرض ادا کر رہا ہوں”

مگر کبھی کبھی سوچنے والا دل یہ سوال بھی پوچھتا ہے کہ کیسے ممکن ہے جلاد کو محسوس نہ ہوتا ہو؟ مجھے لگتا ہے ناممکن ہے۔

جب اس نے ایک نوجوان کو تختہِ دار پر کھڑا کیا تو وہ بولا

“میرے بعد دنیا چلتی رہے گی مگر میری ماں کی دنیا رک جائے گی”

ہمارے ارد گرد بھی روز کوئی نہ کوئی مر رہا ہے یا آہستہ آہستہ موت کی طرف رواں ہے، کسی کو ہماری ضرورت ہے، ہمارے احساس کی، وقت کی، توجہ کی مگر ہم سب کہیں اورمصروف ہیں۔ ہم سب کو لگتا ہے ہم اپنا فرض ادا کررہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے ہم سب بھی کہیں نہ کہیں جلاد ہیں، آپ شاید نہ ہوں مگر میں ہوں۔

علامہ صاحب نے لکھا تھا۔۔۔

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُترجائے ترے دل میں مری بات

اللہ تعالی ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تحریر: حسنین ملک