کیا ہم واقعی حقیقت تلاش کرتے ہیں؟
ملا نصرالدین کے نام سے منسوب ایک مشہور لطیف حکایت ہے کہ ایک رات وہ سڑک کے کنارے نصب ایک چراغ کے نیچے جھکے ہوئے کوئی چیز تلاش کر رہے تھے۔ ایک شخص نے انہیں دیکھا تو پوچھا
“ملا صاحب! کیا تلاش کر رہے ہیں؟”
:ملا نصرالدین نے جواب دیا
“میری چابی گم ہو گئی ہے۔”
:وہ شخص بھی ان کے ساتھ چابی تلاش کرنے لگا۔ کافی دیر گزر گئی مگر چابی نہ ملی۔ آخر اس نے پوچھا
“ملا صاحب، آپ کو یقین ہے کہ چابی یہی کہیں گری تھی؟”
:ملا نے کہا
“نہیں، چابی تو وہاں کہیں اُس باغ میں گری تھی۔”
:اس شخص نے حیرت سے پوچھا
“پھر آپ یہاں کیوں تلاش کر رہے ہیں؟”
ملا نے بڑی سادگی سے جواب دیا
“کیونکہ یہاں روشنی ہے”
یہ مختصر سا لطیفہ بظاہر مزاحیہ ہے مگر اس کے اندر انسانی ذہن، تحقیق، سیاست، معاشرت، مذہب، سائنس اور ہماری روزمرہ زندگی کا ایک گہرا مسئلہ چھپا ہوا ہے۔
اصل مسئلہ چابی نہیں، تلاش کا طریقہ ہے. ملا چابی تلاش کر رہے ہیں، مگر جہاں چابی گم ہوئی ہے وہاں نہیں۔ وہ اس جگہ تلاش کر رہے ہیں جہاں دیکھنا آسان ہے۔ یہ انسانی ذہن کی ایک بنیادی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہم اکثر حقیقت وہاں تلاش نہیں کرتے جہاں وہ موجود ہے؛ ہم اسے وہاں تلاش کرتے ہیں جہاں ہمیں تلاش کرنا آسان لگتا ہے۔
ہم سوال بھی اکثر اپنی سہولت کے مطابق بناتے ہیں، تحقیق بھی اپنی دستیاب معلومات کے مطابق کرتے ہیں اور جواب بھی اکثر اسی جگہ ڈھونڈتے ہیں جہاں ہمارے مطابق پہلے سے روشنی موجود ہو۔
اس کی عام مثال ہے کہ لوگ مذہب کی اصلیت یا تصدیق کے متعلق عقل سے پیدا ہونے سوالوں کے جواب بھی اسی مذہب کی کتابوں یا افراد سے تلاش کرتے ہیں۔ بنیادی وجہ سہولت اور آسانی ہے، تحقیق نہیں۔ یوں ان کو اپنے ہی عقائد کے حق میں جواز مل جاتا ہے، مگر جواب نہیں۔
مگر حقیقت ہماری سہولت کی پابند نہیں ہوتی۔ مغرب میں اس سہولت کا نام کمفرٹ زون رکھا ہے۔ ہم سوالوں کے جواب بھی اپنی کمفرٹ زون کے اندر رہ کر تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ بھلے ان سوالوں کی پیدائش کی بنیادی وجہ ہی ہمارا کمفرٹ زون ہی ہو۔ اس لئے صرف وہی جواب من پسند ہوتے ہیں جو ہمارا کمفرٹ زون خراب نہ کریں۔
انسان اکثر مسئلوں کا حل وہاں تلاش کرتا ہے جہاں اسے دیکھنے کے وسائل میسر ہوں، نہ کہ وہاں جہاں مسئلہ حقیقتاً موجود ہو۔ مثلاً کسی ادارے میں کارکردگی خراب ہو تو ہم فوراً ملازمین کو ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں، کیونکہ ان کا رویہ ہمیں نظر آتا ہے۔ لیکن ممکن ہے اصل مسئلہ ناقص نظام، غلط پالیسی، کمزور قیادت یا غیر واضح اہداف میں ہو۔ مگر وہ جگہ شاید ہمارے لیے اتنی روشن نہ ہو چنانچہ ہم وہی تلاش کرتے ہیں جو ہمیں دکھائی دیتا ہے۔
ہم اپنی پرانی معلومات، تعصبات، تجربات اور مفروضوں کے اندر رہ کر دنیا کو دیکھتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس صرف ایک ہتھوڑا ہو تو ہر مسئلہ ہمیں کیل دکھائی دینے لگتا ہے۔ اگر ہمارے پاس صرف ایک نظریہ ہو تو ہر واقعہ اسی نظریے کی تصدیق کرتا محسوس ہوتا ہے اور اگر ہمارے پاس صرف ایک راستہ ہو تو ہمیں باقی راستے نظر ہی نہیں آتے۔
ملا نصرالدین کی چابی اسی ذہنی حالت کی علامت کا اظہار کرتی ہے۔
سائنس بھی یہی سبق دیتی ہے، سائنسی تحقیق کا بنیادی اصول یہ نہیں کہ “مجھے اپنا جواب ثابت کرنا ہے۔” بلکہ یہ ہے کہ “مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ حقیقت کیا ہے خواہ وہ میرے مفروضے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔”
انسان عموماً ایسی معلومات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے جو اس کے پہلے سے موجود نظریے کی تصدیق کرتی ہوں، جبکہ مخالف معلومات کو نظر انداز یا کم اہم سمجھ سکتا ہے۔ یعنی ہم چابی تلاش نہیں کر رہے ہوتے، ہم اپنے یقین کی تصدیق تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دو انسان ایک ہی واقعہ دیکھ کر بالکل مختلف نتائج نکال سکتے ہیں۔ دونوں کے سامنے حقیقت ایک ہوتی ہے، مگر دونوں کی “روشنی” مختلف ہوتی ہے۔
ہماری زندگی میں بھی بہت سی ایسی “چابیاں” ہیں
کبھی ہم خوشی کو دولت میں تلاش کرتے ہیں
کبھی عزت کو عہدے میں
کبھی سکون کو دوسروں کی منظوری میں
کبھی محبت کو کسی دوسرے انسان میں
کبھی کامیابی کو صرف زیادہ کمانے میں
اور پھر برسوں اسی جگہ تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں ہمارے مطابق روشنی ہے۔
پھر ایک دن احساس ہوتا ہے اور وہ بھی اگر ہو جائے کہ جس چیز کی تلاش تھی، شاید وہ اس جگہ تھی ہی نہیں جہاں ہم اسے ڈھونڈ رہے تھے۔
شاید زندگی کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ
کیا یہ چراغ واقعی ہماری ضرورت کی جگہ روشن کر رہا ہے؟
یا ہم صرف اس لیے وہاں کھڑے ہیں کہ وہاں روشنی زیادہ ہے؟
اصل دانائی چراغ بدلنے کی ہمت میں ہے۔ دانائی صرف زیادہ معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں۔ کبھی دانائی یہ تسلیم کرنے کا نام بھی ہے کہ
میں غلط جگہ تلاش کر رہا ہوں۔
یہ جملہ بہت مشکل ہے۔
کیونکہ اس کے لیے انسان کو اپنی انا، اپنے مفروضے اور اپنے برسوں پرانے یقین پر سوال اٹھانا پڑتا ہے۔ شاید یہی فکری آزادی کی ابتدا ہے
شاید زندگی کی بہت سی گم شدہ چابیاں ہمارے آس پاس ہی پڑی ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ چابی موجود نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس جگہ روشنی لے کر نہیں گئے جہاں وہ گم ہوئی تھی۔
اور شاید حقیقی جستجو وہ لمحہ ہے جب انسان چراغ کے نیچے سے اٹھتا ہے، اندھیرے کی طرف قدم بڑھاتا ہے، اور خود سے کہتا ہے “اگر حقیقت یہاں نہیں ہے تو مجھے روشنی بدلنی ہوگی، حقیقت نہیں۔”
اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
تحریر: حسنین ملک