1999
میں لاہور کی سنٹرل جیل جانا ہوتا تھا
انسانی نفسیات میں وحشت کے موضوع پر مواد اکٹھا کرنے اور تجربات دیکھنے کے لیے، سزائے موت کے مجرموں کے انٹرویو کیے، وہ سلاخوں کے دوسری جانب تھے۔ ان سے ڈھیروں ملاقاتوں اور باتوں کے بعد ایک حیرت ناک پہلو سامنے آیا ۔ مجھے جانے سے پہلے اور آغاز میں لگتا تھا کہ سلاخوں کے اُس پار لوگ ہمیں بہت حسرت سے دیکھتے ہوں گے کہ ہم آزادی سے جہاں مرضی گھومتے ہیں، جب مرضی جہاں مرضی چلے جاتے ہیں جس کو چاہیں مل لیتے ہیں مگر ان کی سوچ میں دور دور تک ایسا کوئی عنصر تک موجود نہ تھا ۔ یہ میرے لئے عجب بات تھی کہ انسان کے پاس کوئی شے نہ ہو اور اسے غیر موجودگی کا احساس بھی نہ ہو۔ ایک مجرم اپاہج تھا زیادہ تر اپنے بستر پر لیٹا رہتا تھا۔ مجھے اس کے پاس جانے کی اجازت تھی اس لئے میں سلاخوں کی دوسری طرف بیٹھ کر اس سے باتیں کیا کرتا تھا۔ اس کی گفتگو میں بھی کہیں اس حسرت کا شائبہ تک نہ تھا کہ اسے باہر جانا ہے، عام لوگوں کی طرح آزادی سے رہنا ہے۔
ایک وجہ تو شاید یہ بھی ہے کہ انسانی نفسیات اپنے ارد گرد کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتی ہے۔ جب انسان سے دیکھتا ہے کہ سب لوگ اپنی اپنی سزا بھگت رہے ہیں ، خاص طور پر سزائے موت کے مجرم جو صرف اپنی باری کے انتظار میں زندگی گزار رہے ہیں تو وہاں کے ماحول میں اسی انتظار اور بےزاری کا نام زندگی رکھنے میں آسانی ہے اور انسان ہمیشہ آسانی پسند کرتا ہے۔
وہاں ایک بوڑھا قیدی تھا جو عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ اُسے نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور اسکے گھر والوں نے اس کو پھنسا دیا تھا۔ وہ وہاں ہر جمعہ کی دوپہر کو وعظ کیا کرتا تھا۔ قیدیوں کےعلاوہ جیل کی پولیس اور کچھ NGOs کے افراد بھی اس کا وعظ سننے آتے تھے۔ ایک دفعہ موقع پا کر میں نے اُس بوڑھے قیدی سے اپنے اِس تعجب کا ذکر کیا کہ یہاں کوئی باہر کی زیادہ حسرت نہیں کرتا نظر آتا یا مجھے ایسا لگتا ہے شاید۔ اس نے پنجابی میں جو کہا اس کا اردو میں خلاصہ کچھ اس طرح سے تھا:
“آپ لوگ ہم جیل کی دیواروں کے اندر رہنے والوں پر ترس کھاتے ہیں مگر شاید کبھی خود سے یہ سوال نہیں کرتے کہ کیا دیواروں کے باہر رہنے والے واقعی آزاد ہیں؟
آپ کہتے ہیں کہ آپ آزاد ہیں، صبح آپ کب جاگیں گے، اکثر الارم نہیں بلکہ ذمہ داریاں طے کرتی ہیں۔
کہاں جانا ہے، کیا پڑھنا ہے، کون سا پیشہ اختیار کرنا ہے، کس سے شادی کرنی ہے، کب گھر بنانا ہے، کتنی آمدنی ہونی چاہیے، کون سی گاڑی عزت کی علامت ہے، کس سے تعلق رکھنا ہے اور کس سے دور رہنا ہے، ان فیصلوں میں واقعی آپ کی مرضی ہوتی ہے؟
کہیں حکومت کے قوانین ہیں، کہیں مذہب کی تعبیر، کہیں خاندان کی توقعات، کہیں معاشرے کی روایات اور کہیں زندگی کی مجبوریاں۔ آپ لوگ ان سب کے درمیان اپنی آزادی کا گمان لیے پھرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ میں سے اکثر کے ہاتھ میں اپنی زندگی کا ریموٹ نہیں ہوتا۔ کسی دوسرے کا ایک جملہ، ایک تنقید، ایک نظر، ایک انکار، ایک خبراورآپکا پورا دن بدل جاتا ہے۔ گویا کسی اور نے آپ کے جذبات کا بٹن دبا دیا اور چینل بدل گیا۔ پھر اسی بدلے ہوئے چینل پر آپ اپنے بچوں، اپنے والدین، اپنے شریکِ حیات، اپنے دوستوں اور اپنے ساتھیوں کے دلوں پر بھی وہی بے چینی منتقل کر دیتے ہیں۔ ایک زخمی دل کئی اور دل زخمی کر دیتا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ فیصلے کر رہے ہیں مگرآپ کے فیصلےآپ کا خوف کرتا ہے، آپ کی خواہشیں کرتی ہیں، آپ کی انا کرتی ہے یا وہ توقعات کرتی ہیں جو دوسروں نے آپ کے اندر برسوں پہلے رکھ دی تھیں۔
اور سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ جس دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہوگا وہ دن بھی آپ ہماری طرح خود مقرر نہیں کر سکتے۔ اگر زندگی کا آغاز آپ کے اختیار میں نہیں تھا، انجام آپ کے اختیار میں نہیں ہے اور درمیان کا بیشتر سفر بھی دوسروں کے اثرات، حالات اور خواہشات سے تشکیل پاتا ہے تو پھر آپ کس آزادی پر فخر کرتے ہیں؟ پھر ہمیں کس چیز کی حسرت ہوگی اندر بیٹھ کر؟
شاید فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ ہماری طرح لوہے کی سلاخوں والی جیل میں رہتے ہیں اور کچھ لوگ ایسی جیلوں میں جن کی دیواریں نظر نہیں آتیں۔
دولت، شہرت، خوف کا قیدی، کوئی محبت کی طلب کا، کوئی ماضی کی یادوں کا، کوئی مستقبل کی فکر کا اور کوئی اپنی ہی انا کا۔ سب کے سب قیدی ہیں اصل آزادی شعور کی ہوتی ہے۔ کیونکہ دنیا کی سب سے مضبوط جیل پتھر اور لوہے سے نہیں بنتی بلکہ انسان کے اپنے ذہن، اپنے خوف، اپنی خواہشات اور اپنی “میں” سے بنتی ہے۔”
ایک بار میں اس کے پاس اندر بیٹھا تھا تو سلاخوں کے دوسری جانب سے ایک حوالدار گشت کرتے گزرا، اس نے ہم دونوں کو سلام کیا۔ اس کے پاس ایک پرچہ تھا جو اس کے پیر صاحب کے آستانے سے اس کو ارسال ہوا تھا۔ وہ بہت انہماک اور یقین کے ساتھ اسے پڑھ کر سنا رہا تھا
“پیر صاحب نے فرمایا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ورد کرنے سے انسان کی عمر لمبی ہوتی ہے۔ آپ لوگ بھی صبح شام اسے پڑھا کریں۔”
وہاں اندار اس قیدی کے پاس بیٹھے ہوئے مجھے وہ حوالدار سلاخوں کے دوسری جانب نظر آرہا تھا بالکل ایسے جیسے وہ بھی کوئی قیدی ہو۔ شاید اسی لئے جیل کے اندر کے قیدیوں کو یہ حسرت نہیں ہوتی، انھیں بھی اندر سے باقی سب سلاخوں کے پیچھے ہی نظر آتے ہیں۔ ان کے لاشعور میں یہ بات چلی جاتی ہے کہ سب قیدی ہیں۔
اس پوری کائنات میں ہم سب سزائے موت کے مجرم ہیں ، سلاخوں کے دونوں جانب، صرف اپنی اپنی باری کے منتظر۔۔۔
اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
تحریر: حسنین ملک